
Description
کتاب ’’قرآن مجید اور علاماتِ ایمان‘‘ کا دس نکاتی تعارف
1۔ قرآن فہمی کو آسان بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش
قرآن مجید اور علاماتِ ایمان ایک ایسی علمی و تربیتی کاوش ہے جس کا بنیادی مقصد قرآن مجید کے ان تصورات اور ہدایات کو آسان، مختصر اور قابلِ فہم انداز میں پیش کرنا ہے جو ایک مسلمان کی فکری، روحانی، اخلاقی اور عملی زندگی کی تشکیل کرتے ہیں۔ کتاب کا مرکزی محور یہ ہے کہ قاری قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کی رہنمائی کا سرچشمہ سمجھے۔
2۔ قرآن فہمی کے باقاعدہ نصاب کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش
کتاب کے مصنف نے اس ضرورت کو محسوس کیا ہے کہ نوجوانوں کے لیے قرآن فہمی کا ایسا منظم اور باقاعدہ نصاب ہونا چاہیے جو قرآن مجید کے بنیادی تصورات کو براہِ راست قرآن کی روشنی میں سمجھائے۔ اسی مقصد کے تحت اس کتاب کو نوجوانوں کے لیے قرآن فہمی کے ایک ابتدائی نصابی نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
3۔ براہِ راست قرآن مجید سے رہنمائی
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مرکزی موضوعات کے لیے قرآن مجید کی متعلقہ آیات منتخب کی گئی ہیں، ان کا ترجمہ دیا گیا ہے اور پھر انہی آیات سے زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے رہنمائی اخذ کی گئی ہے۔ یوں قاری کو قرآن کے پیغام تک براہِ راست رسائی حاصل ہوتی ہے۔
4۔ مسلکی تعصبات سے بلند ایک قرآنی منہج
کتاب کا ایک اہم امتیاز یہ ہے کہ اس کا منہج جدید، تعلیم یافتہ اور غیر جانب دار ذہن رکھنے والے نوجوانوں کو سامنے رکھ کر تشکیل دیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں مسلکی بحثوں اور باہمی تعصبات کے باعث پیدا ہونے والے فکری تذبذب کے مقابلے میں یہ کتاب قرآن مجید کو براہِ راست سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔
5۔ ایمان کو دعوے سے عمل تک لے جانے کا طریقہ
کتاب کا بنیادی سوال یہ ہے کہ حقیقی ایمان کی پہچان کیا ہے؟ اس مقصد کے لیے قرآن مجید میں بیان کردہ مومنین کی علامات، متقین کی صفات، عبادالرحمٰن کے اوصاف، جنت کے مستحقین اور اعلیٰ ترین ایمان کے حامل افراد کے قرآنی اوصاف کو سامنے لایا گیا ہے۔
6۔ خود احتسابی اور تزکیۂ شخصیت کی کتاب
یہ کتاب قاری کو دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے ایمان کو قرآن کے معیار پر پرکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ ’’معیارِ ایمان‘‘، ’’مومن کی پہچان‘‘، ’’مؤمنین کی پانچ علامات‘‘ اور ’’اہلِ ایمان کی سات علامات‘‘ جیسے موضوعات اسی خود احتسابی کے منہج کو آگے بڑھاتے ہیں۔
7۔ ایمان کو فرد سے معاشرے تک وسعت دینے کا منفرد پہلو
کتاب میں ایمان اور تقویٰ کو صرف انفرادی عبادات تک محدود نہیں کیا گیا بلکہ وعدہ پورا کرنے، صلہ رحمی، صبر، نماز، انفاق، امانت داری، عہد کی پاسداری اور برائی کو اچھائی کے ذریعے دور کرنے جیسے معاشرتی اوصاف کو بھی ایمان و تقویٰ کی علامات کے طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔
8۔ مختصر مگر بامقصد اسلوب
کتاب کی ترتیب کو دانستہ طور پر سادہ، مختصر اور بامقصد رکھا گیا ہے۔ ہر مرکزی مضمون کو ایک واضح عنوان، متعلقہ قرآنی آیات، ترجمہ اور ان سے اخذ کردہ عملی ہدایات کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ یہ انداز ان قارئین کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو بڑی تفسیری کتب کے مطالعے کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔
9۔ نوجوان نسل کے فکری و اخلاقی مسائل کا قرآنی حل
دین سے دوری، الحادی رجحانات، بے عملی، فکری تذبذب اور مذہبی تعصبات جیسے موجودہ مسائل کے تناظر میں کتاب نوجوانوں کو قرآن مجید کی طرف براہِ راست رجوع کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کا مقصد محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ قرآن کی روشنی میں تصورات، رویوں اور عملی زندگی کی تشکیل ہے۔
10۔ ایمان کی علامات سے ایک جامع قرآنی شخصیت کی تشکیل
کتاب کی سب سے اہم انفرادیت یہ ہے کہ یہ ایمان کو ایک مجرد نظریے کے طور پر نہیں بلکہ ایک مکمل شخصیت، مزاج اور طرزِ زندگی کے طور پر سامنے لاتی ہے۔ اس میں ایمان، تقویٰ، عبادت، اخلاق، معاشرت، صبر، انفاق، توکل، عاجزی، خود احتسابی اور ذمہ دارانہ کردار کو باہم مربوط کیا گیا ہے۔ یوں یہ کتاب قاری کو صرف یہ نہیں بتاتی کہ ’’مومن کون ہے؟‘‘ بلکہ اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ’’کیا میں قرآن کے بیان کردہ مومن کی علامات اپنے اندر پیدا کر رہا ہوں؟‘‘


