
Description
کتاب میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ عبادت محض ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ بندگی، عاجزی، کامل اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی محتاجی کے اظہار کا نام ہے۔ نماز کو اس کامل بندگی کی جامع ترین صورت قرار دیا گیا ہے۔
8. انسان کی ذمہ داری اور مقصدِ حیات
مصنف نے انسان کے دو بنیادی فرائض بیان کیے ہیں: ایک اپنے خالق کی عبادت اور دوسرا اللہ تعالیٰ کی صفاتِ رحمت، تربیت، اصلاح اور خدمت کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرنا، تاکہ انسان زمین پر اللہ کا حقیقی نائب بن سکے۔
9. آسان، اصلاحی اور دعوتی اسلوب
کتاب کی زبان عام فہم، سادہ اور مؤثر ہے۔ مصنف نے خود واضح کیا ہے کہ اس تصنیف کا مقصد پیچیدہ علمی مباحث پیش کرنا نہیں بلکہ ہر طبقۂ فکر، خصوصاً نوجوانوں اور عام قارئین کی اصلاح اور تربیت کرنا ہے۔
10. کتاب کا مقصد اور اہمیت
اس کتاب کا بنیادی مقصد انسان کو اس کی حقیقی معرفت عطا کرنا، اسے اس کے رب سے جوڑنا، مقصدِ تخلیق سے آگاہ کرنا اور یہ احساس دلانا ہے کہ انسان پوری کائنات کا نچوڑ، اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیق اور اس کی خلافت کا امین ہے۔ یہی شعور انسان کو کامیاب، باکردار اور باعمل زندگی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
٭انسان میں جملہ مخلوقات کے نمونے:
• انسان میں ---مٹی ،آگ پانی اور ہوا کا سلسلہ
• انسان میں--- پہاڑوں اور درختوں کا سلسلہ
• انسان میں--- حیوانات کا سلسلہ
• انسان میں---بارشوںکا سلسلہ
• انسان میں--- سمندروں اور دریاؤں کا سلسلہ
• انسان میں ---پاکی و ناپاکی کا سلسلہ
• انسان میں--- ہواؤں کا سلسلہ
• انسان میں--- حرارت کا سلسلہ
٭انسان میں خالقِ کائنات کے نمونے:
• کائنات میں نظم اور اسکی شیرازہ بندی
• رب کا تصرف
• بعض حصوں سے روح کا خاص تعلق
٭نمونہ مخلوق ہونے کی نسبت سے انسان کا پہلا فرض:
• عبادت
٭نمونہ کمالاتِ خداوندی ہونے کی نسبت سے انسان کادوسرا فرض:
• نیابت(اللہ تعالیٰ کے نائب کے طور پر فرائض سر انجام دینا)
٭تکمیلِ ایمان کے لئے عبادت و خلافت دونوں ضروری ہیں


